حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ يَمْشِي بِمِنًى فَقَالَ نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ كُلَّ يَوْمِ ثُلَاثَاءَ أَوْ أَرْبِعَاءَ فَوَافَقْتُ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَمَا تَرَى قَالَ أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِوَفَاءِ النَّذْرِ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ نُهِينَا أَنْ نَصُومَ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ فَظَنَّ الرَّجُلُ أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ كُلَّ يَوْمِ ثُلَاثَاءَ أَوْ أَرْبِعَاءَ فَوَافَقْتُ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ نُهِينَا أَنْ نَصُومَ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ فَمَا زَادَهُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى أَسْنَدَ فِي الْجَبَلِ
زیادہ بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال پوچھا جبکہ وہ منٰی میں چل رہے تھے کہ میں نے یہ منت مان رکھی ہے کہ میں ہر منگل یا بدھ کو روزہ رکھا کروں گا اب بدھ کے دن عید الاضحی آ گئی ہے، اب آپ کی کیا رائے ہے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ نے منت پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم النحر (دس ذی الحجہ) کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے وہ آدمی یہ سمجھا کہ شاید حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی بات سنی نہیں ہے لہٰذا اس نے اپنا سوال پھر دہرادیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی حسب سابق جواب دیا اور اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا یہاں تک کہ پہاڑ کے قریب پہنچ کر اس سے ٹیک لگا لی۔
