مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1683

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ يُحَنَّسَ أَنَّ مَوْلَاةً لِابْنِ عُمَرَ أَتَتْهُ فَقَالَتْ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ وَمَا شَأْنُكِ قَالَتْ أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى الرِّيفِ فَقَالَ لَهَا اقْعُدِي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

یوحنس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک باندی ان کے پاس آگئی اور کہنے لگی اے ابوعبدالرحمن آپ کو سلام ہو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا کیامطلب؟ اس نے کہا کہ میں کسی سرسبز و شاداب علاقے میں جانا چاہتی ہوں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا بیٹھ جاؤ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور سختیوں پر صبر کرے میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا۔

یہ حدیث شیئر کریں