مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1579

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُعْتَمِرًا فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ هَدْيَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرُوا الْعَامَ الْمُقْبِلَ وَلَا يَحْمِلَ السِّلَاحَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ سُرَيْجٌ وَلَا يَحْمِلَ سِلَاحًا إِلَّا سُيُوفًا وَلَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا فَاعْتَمَرَ مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَدَخَلَهَا كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ فَلَمَّا أَنْ أَقَامَ ثَلَاثًا أَمَرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ فَخَرَجَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے ارادے سے روانہ ہوئے لیکن قریش کے کفار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجبور ہو کر حدیبیہ ہی میں ہدی کا جانور ذبح کر کے حلق کروا لیا، اور ان سے اس شرط پر مصالحت کر لی کہ آئندہ سال آ کر عمرہ کریں گے اور اپنے ساتھ ہتھیار لے کر نہیں آئیں گے البتہ تلوار کی اجازت ہو گی اور مکہ مکرمہ میں ان کا قیام قریش کی مرضی کے مطابق ہو گا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ سال عمرہ کے لئے تشریف لائے اور شرائط صلح کے مطابق مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تین دن رکنے کے بعد قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے واپسی کے لئے کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے نکل آئے۔

یہ حدیث شیئر کریں