حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ كَيْفَ صَلَاةُ الْمُسَافِرِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ أَمَّا أَنْتُمْ فَتَتَّبِعُونَ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُكُمْ وَأَمَّا أَنْتُمْ لَا تَتَّبِعُونَ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَمْ أُخْبِرْكُمْ قَالَ قُلْنَا فَخَيْرُ السُّنَنِ سُنَّةُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ هَذِهِ الْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهَا
بشر بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اے ابوعبدالرحمن! مسافر کی نماز کس طرح ہوتی ہے؟ انہوں نے فرمایا اگر تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرو تو میں تمہیں بتادوں ، نہ کروں تونہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کیا کہ اے ابوعبدالرحمن! بہترین طریقہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی تو ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس شہر سے نکلتے تھے تو واپس آنے تک دو رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔
