مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1495

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْبُنَانِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَشْتَرِي هَذِهِ الْحِيطَانَ تَكُونُ فِيهَا الْأَعْنَابُ فَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَبِيعَهَا كُلَّهَا عِنَبًا حَتَّى نَعْصِرَهُ قَالَ فَعَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ تَسْأَلُنِي سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ أَكَبَّ وَنَكَتَ فِي الْأَرْضِ وَقَالَ الْوَيْلُ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ عُمَرُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَقَدْ أَفْزَعَنَا قَوْلُكَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ لَيْسَ عَلَيْكُمْ مِنْ ذَلِكَ بَأْسٌ إِنَّهُمْ لَمَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَتَوَاطَئُوهُ فَيَبِيعُونَهُ فَيَأْكُلُونَ ثَمَنَهُ وَكَذَلِكَ ثَمَنُ الْخَمْرِ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ

عبدالواحدبنانی رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا اے ابوعبدالرحمن! میں یہ باغات خرید رہا ہوں ، ان میں انگور بھی ہوں گے، ہم صرف انگوروں کو ہی نہیں بیچ سکتے جب تک اسے نچوڑنہ لیں ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا گویا تم مجھ سے شراب کی قیمت کے بارے پوچھ رہے ہو، میں تمہارے سامنے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، ہم لوگ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سرآسمان کی طرف اٹھایا پھر اسے جھکا کر زمین کو کریدنے لگے اور فرمایا بنی اسرائیل کے لئے ہلاکت ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے اللہ کے نبی! ہم تو بنی اسرائیل کے متعلق آپ کی یہ بات سن کر گھبرائے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں اس کا نقصان نہیں ہوگا، اصل بات یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل پر چربی کو حرام قرار دیا گیا تو انہوں نے اتفاق رائے سے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھانا شروع کردی، اسی طرح شراب کی قیمت بھی تم پر حرام ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں