مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1382

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَنَهَى عَنْ النَّجْشِ وَنَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ وَنَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ النَّجْشِ مِثْلَهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع میں دھوکے سے ، حاملہ جانور کے حمل کی بیع سے اور بیع مزابنہ سے منع فرمایا: بیع مزابنہ کا مطلب یہ ہے کہ پھلوں کی بیع کھجوروں کے بدلے کی جائے ناپ کر، یاا نگور کی بیع کشمش کے بدلے ناپ کرکے کی جائے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع میں دھوکے سے منع فرمایا ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں