حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ إِنَّ عِنْدَنَا رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الْأَمْرَ بِأَيْدِيهِمْ فَإِنْ شَاءُوا عَمِلُوا وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يَعْمَلُوا فَقَالَ أَخْبِرْهُمْ أَنِّي مِنْهُمْ بَرِيءٌ وَأَنَّهُمْ مِنِّي بُرَآءُ ثُمَّ قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ مَا الْإِسْلَامُ فَقَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ صَدَقْتَ قَالَ فَمَا الْإِحْسَانُ قَالَ تَخْشَى اللَّهَ تَعَالَى كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَا تَكُ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُحْسِنٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ صَدَقْتَ قَالَ فَمَا الْإِيمَانُ قَالَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْقَدَرِ كُلِّهِ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُؤْمِنٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ صَدَقْتَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ قَالَ وَكَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہماری ملاقات حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی میں نے ان سے عرض کیا کہ ہمارے یہاں کچھ لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ معاملات ان کے اختیار میں ہیں ، چاہیں تو عمل کرلیں اور چاہیں تونہ کریں ، ہماری بات سن کر انہوں نے فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کے پاس لوٹ کر جاؤ توان سے کہہ دیناکہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں یہ بات کہہ کر انہوں نے یہ روایت سنائی کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم " اسلام " کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ نیزیہ کہ آپ نماز قائم کریں ، زکوۃ ادا کریں ، رمضان کے روزے رکھیں اور حج بیت اللہ کریں ۔ اس نے کہا کہ جب میں یہ کام کر لوں تو میں " مسلمان " کہلاؤں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا: پھر اس نے پوچھا کہ " احسان " کی تعریف کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اللہ سے اس طرح ڈرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر ہی تصور نہ کر سکو تو پھریہی تصور کر لو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اس نے کہا کیا ایساکرنے کے بعد میں " محسن " بن جاؤں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا پھر اس نے پوچھا کہ " ایمان " کی تعریف کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اللہ پر، اس کے فرشتوں ، کتابوں ، رسولوں ، موت کے بعد دوبارہ زندگی، جنت وجہنم اور ہر تقدیر پر یقین رکھو، اس نے کہا کیا ایساکرنے کے بعد میں " مؤمن " کہلاؤں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں اتنااضافہ بھی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں آتے تھے۔
