مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2316

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَقَالَ غَيْرُهُ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَاللَّهِ لَئِنْ وَجَدَ رَجُلٌ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِهِ فَتَكَلَّمَ لَيُجْلَدَنَّ وَإِنْ قَتَلَهُ لَيُقْتَلَنَّ وَلَئِنْ سَكَتَ لَيَسْكُتَنَّ عَلَى غَيْظٍ وَاللَّهِ لَئِنْ أَصْبَحْتُ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَئِنْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَكَلَّمَ لَيُجْلَدَنَّ وَإِنْ قَتَلَهُ لَيُقْتَلَنَّ وَإِنْ سَكَتَ لَيَسْكُتَنَّ عَلَى غَيْظٍ وَجَعَلَ يَقُولُ اللَّهُمَّ افْتَحْ اللَّهُمَّ افْتَحْ قَالَ فَنَزَلَتْ الْمُلَاعَنَةُ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ الْآيَةَ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ جمعہ کے دن شام کے وقت مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری کہنے لگا اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے اور اسے قتل کر دے تو تم اسے بدلے میں قتل کر دیتے ہو، اگر وہ زبان ہلاتا ہے تو تم اسے کوڑے مارتے ہو اور اگر وہ سکوت اختیار کرتا ہے تو غصے کی حالت میں سکوت کرتا ہے، بخدا! اگر میں صبح کے وقت صحیح ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھ کر رہوں گا، چنانچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا اور عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو دیکھتا ہے اور اسے قتل کر دیتا ہے تو بدلے میں آپ اسے قتل کر دیتے ہیں ، اگر وہ بولتا ہے تو آپ اسے کوڑے لگاتے ہیں اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو غصے کی حالت میں خاموش رہتا ہے؟ اے اللہ! تو فیصلہ فرما، چنانچہ آیت لعان نازل ہوئی۔

یہ حدیث شیئر کریں