مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2308

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ قَالَ حَدَّثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَالَ مَنْ اقْتَصَدَ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد إِلَى هُنَا قَرَأْتُ عَلَى أَبِي وَمِنْ هُنَا حَدَّثَنِي أَبِي

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میانہ روی سے چلنے والا کبھی محتاج اور تنگدست نہیں ہوتا۔
فائدہ : امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے عبداللہ نے حدیث٤٢٥٥ سے ٤٢٦٩ تک کی احادیث کے بارے فرمایا ہے کہ میں نے والد صاحب کو یہ احادیث پڑھ کر سنائی ہیں اور اس سے آگے کی احادیث انہوں نے مجھے خود سنائی ہیں
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے آیت قرآنی " اقتربت الساعۃ وانشق القمر" کی تفسیر میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا، ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے چلا گیا اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر رہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! گواہ رہو۔

یہ حدیث شیئر کریں