مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2295

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي مِنْ هَاهُنَا إِلَى الْبَلَاغِ فَأَقَرَّ بِهِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي فَافْتَتَحَ النِّسَاءَ فَسَحَلَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ ثُمَّ تَقَدَّمَ يَسْأَلُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَلْ تُعْطَهْ سَلْ تُعْطَهْ سَلْ تُعْطَهْ فَقَالَ فِيمَا سَأَلَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ قَالَ فَأَتَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَبْدَ اللَّهِ لِيُبَشِّرَهُ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ قَدْ سَبَقَهُ فَقَالَ إِنْ فَعَلْتَ لَقَدْ كُنْتَ سَبَّاقًا بِالْخَيْرِ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ہوا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورت نساء کی تلاوت شروع کی اور مہارت کے ساتھ اسے پڑھتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن کو اس طرح مضبوطی کے ساتھ پڑھنا چاہے جیسے وہ نازل ہوا تو اسے ابن ام عبد کی طرح پڑھنا چاہیے جیسے وہ نازل ہوا پھر وہ بیٹھ کر دعاء کرنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مانگو تمہیں دیا جائے گا، انہوں نے یہ دعاء مانگی کہ اے اللہ! میں آپ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں ، آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک جو کبھی فناء نہ ہو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنت الخلد میں رفاقت کا سوال کرتا ہوں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ انہیں خوشخبری دینے کے لئے پہنچے تو پتہ چلا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان پر سبقت لے گئے ہیں، جس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ نے یہ کام کیا ہے تو آپ ویسے بھی نیکی کے کاموں میں بہت زیادہ سبقت لے جانے والے ہیں۔

یہ حدیث شیئر کریں