مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2261

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ عَنْ طَارِقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَزَلَتْ بِهِ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ كَانَ قَمِنًا مِنْ أَنْ لَا تُسَدَّ حَاجَتُهُ وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَتَاهُ اللَّهُ بِرِزْقٍ عَاجِلٍ أَوْ مَوْتٍ آجِلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيلَ عَنْ سَيَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ فَذَكَرَهُ قَالَ أَبِي وَهُوَ الصَّوَابُ سَيَّارٌ أَبُو حَمْزَةَ قَالَ وَسَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ لَمْ يُحَدِّثْ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ بِشَيْءٍ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو کوئی ضرورت پیش آئے اور وہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کر دے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کا کام آسان نہ ہو اور جو شخص اسے اللہ کے سامنے بیان کرے تو اللہ اسے فوری رزق یا تاخیر کی موت عطاء فرما دے گا۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں