حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنِ ابْنِ الْأَخْرَمِ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ التَّبَقُّرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ و قَالَ عَبْد اللَّهِ كَيْفَ مَنْ لَهُ ثَلَاثَةُ أَهْلِينَ أَهْلٌ بِالْمَدِينَةِ وَأَهْلٌ بِكَذَا وَأَهْلٌ بِكَذَا
ایک مرتبہ بنو طئی کے ایک آدمی نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے لوگوں میں یہ حدیث بیان کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل و عیال اور مال کی کثرت سے منع فرمایا ہے۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اس شخص کا کیا ہوگا جس کے اہل خانہ تین جگہوں میں رہتے ہیں ، کچھ اہل خانہ مدینہ میں رہتے ہیں اور کچھ کہیں اور کچھ کہیں اور۔
