مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2181

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشُ وَوَاصِلٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ طَعَامِكَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَرَّةً أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ قَالَ ثُمَّ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ فَذَكَرَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ وَاصِلٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ فَذَكَرَهُ ثُمَّ قَرَأَ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ إِلَى مُهَانًا

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بالخصوص جبکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے، سائل نے کہا اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ڈر سے اپنی اولاد کو قتل کر دینا کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھانے لگے گا، سائل نے پوچھا اس کے بعد؟ فرمایا اپنے ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرنا۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں آیت کا حوالہ بھی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں