مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2091

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ عَنِ الْعَيْزَارِ مِنْ تِنْعَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا وُجِّهَتْ اللَّعْنَةُ تَوَجَّهَتْ إِلَى مَنْ وُجِّهَتْ إِلَيْهِ فَإِنْ وَجَدَتْ فِيهِ مَسْلَكًا وَوَجَدَتْ سَبِيلًا حَلَّتْ بِهِ وَإِلَّا جَاءَتْ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ يَا رَبِّ إِنَّ فُلَانًا وَجَّهَنِي إِلَى فُلَانٍ وَإِنِّي لَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ سَبِيلًا وَلَمْ أَجِدْ فِيهِ مَسْلَكًا فَمَا تَأْمُرُنِي فَقَالَ ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص پر لعنت بھیجی گئی ہو، لعنت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، اگر وہاں تک پہنچنے کا راستہ مل جائے تو وہ اس پر واقع ہو جاتی ہے ورنہ بارگاہ الٰہی میں عرض کرتی ہے کہ پروردگار! مجھے فلاں شخص کی طرف متوجہ کیا گیا لیکن میں نے اس تک پہنچنے کا راستہ نہ پایا، اب کیا کروں ؟ اس سے کہا جاتا ہے کہ جہاں سے آئی ہے وہیں واپس چلی جا۔

یہ حدیث شیئر کریں