مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2088

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَيَعْلَى عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ أَتَى عَبْدُ اللَّهِ الشَّامَ فَقَالَ لَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ اقْرَأْ عَلَيْنَا فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ سُورَةَ يُوسُفَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ وَاللَّهِ مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَيْحَكَ وَاللَّهِ لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا فَقَالَ أَحْسَنْتَ فَبَيْنَا هُوَ يُرَاجِعُهُ إِذْ وَجَدَ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ فَقَالَ أَتَشْرَبُ الرِّجْسَ وَتُكَذِّبُ بِالْقُرْآنِ وَاللَّهِ لَا تُزَاوِلُنِي حَتَّى أَجْلِدَكَ فَجَلَدَهُ الْحَدَّ

علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ شام کے وقت تشریف لائے اور اہل حمص کے کچھ لوگوں کی فرمائش پر ان کے سامنے سورت یوسف کی تلاوت فرمائی، ایک آدمی کہنے لگا کہ بخدا! یہ سورت اس طرح نازل نہیں ہوئی ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا افسوس! اللہ کی قسم میں نے یہ سورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسی طرح پڑھی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تحسین فرمائی تھی، اسی دوران وہ اس کے قریب گئے تو اس کے منہ سے شراب کی بدبو آئی، انہوں نے فرمایا کہ تو حق کی تکذیب کرتا ہے اور شراب بھی پیتا ہے ؟ بخدا! میں تجھ پر حد جاری کئے بغیر تجھے نہیں چھوڑوں گا، چنانچہ انہوں نے اس پر حد جاری کی۔

یہ حدیث شیئر کریں