مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2053

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْأَحْقَافِ وَأَقْرَأَهَا رَجُلًا آخَرَ فَخَالَفَنِي فِي آيَةٍ فَقُلْتُ لَهُ مَنْ أَقْرَأَكَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي نَفَرٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ بَلَى قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّكَ أَقْرَأْتَهَا إِيَّاهُ كَذَا وَكَذَا فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الرَّجُلُ الَّذِي عِنْدَهُ لِيَقْرَأْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ كَمَا سَمِعَ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالِاخْتِلَافِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِذَلِكَ أَمْ هُوَ قَالَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعْنَاهُ وَقَالَ فَغَضِبَ وَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ وَقَالَ إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ الِاخْتِلَافُ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو سورت احقاف کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، وہ ایک مختلف طریقے سے قرأت کر رہا تھا ، دوسرا آدمی دوسرے طریقے سے اسے پڑھ رہا تھا جو اس کے ساتھی سے مختلف تھا، اور میں اسے ایک تیسرے طریقے سے پڑھ رہا تھا جس پر وہ دونوں پڑھ رہے تھے، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور انہیں اس کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا، چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور فرمایا اختلاف نہ کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔ زر کہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، وہ کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص قرآن کی تلاوت اسی طرح کیا کرے جیسے اسے پڑھایا گیا ہے، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو اختلاف ہی نے ہلاک کیا تھا ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے معلوم نہیں کہ یہ چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ ان ہی سے بیان فرمائی تھی یہ ان کی اپنی رائے ہے۔
گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں