مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2032

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِجَمْعٍ فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ كُلَّ صَلَاةٍ وَحْدَهَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَالْعَشَاءُ بَيْنَهُمَا وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ أَوْ قَالَ حِينَ قَالَ قَائِلٌ طَلَعَ الْفَجْرُ وَقَالَ قَائِلٌ لَمْ يَطْلُعْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَذَا الْمَكَانِ لَا يَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتَّى يُعْتِمُوا وَصَلَاةُ الْفَجْرِ هَذِهِ السَّاعَةُ

عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ کے میدان میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے دو نمازیں پڑھیں ۔ ہر نماز تنہا ایک اذان اور اقامت کے ساتھ پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کھانا بھی کھایا اور فجر کی نماز اس وقت پڑھی جب طلوع فجر ہوگئی (یا راوی نے یہ کہا کہ بعض لوگ کہہ رہے تھے کہ صبح صادق ہوگئی ہے اور بعض کہہ رہے تھے کہ ابھی نہیں ہوئی) پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ صرف اس جگہ پر ان دو نمازوں کا وقت بدل دیا گیا ہے، لوگ مزدلفہ میں رات کے وقت آتے ہیں اور فجر کی نماز اس وقت پڑھی جائے۔

یہ حدیث شیئر کریں