مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2031

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ وَعَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ فَقَالَ بَلْ هَذَذْتَ كَهَذِّ الشِّعْرِ أَوْ كَنَثْرِ الدَّقَلِ لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفْعَلْ كَمَا فَعَلْتَ كَانَ يَقْرَأُ النُّظُرَ الرَّحْمَنَ وَالنَّجْمَ فِي رَكْعَةٍ قَالَ فَذَكَرَ أَبُو إِسْحَاقَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ بِعِشْرِينَ سُورَةً عَلَى تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ آخِرُهُنَّ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَالدُّخَانُ

ابراہیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (بنو بجیلہ کا ایک آدمی) جس کا نام نہیک بن سنان تھا، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا گھٹیا اشعار کی طرح؟ یا ردی قسم کی نثر کی طرح؟ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کرتے تھے بلکہ ایک جیسی سورتوں مثلا سورت رحمان اور سورت نجم کو ایک رکعت میں پڑھ لیتے تھے، پھر ابو اسحاق نے دس رکعتوں کا بیس سورتوں کے ساتھ تذکرہ کیا، اور اس سے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے جمع کردہ مصحف کے مطابق مفصلات کی ابتدائی بیس سورتیں مراد ہیں جن کا اختتام سورت تکویر اور دخان ہوا۔

یہ حدیث شیئر کریں