مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2016

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِيَّاكُمْ أَنْ تَقُولُوا مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا أَوْ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا فَإِنَّ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ وَيُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ فَإِنْ كُنْتُمْ شَاهِدِينَ لَا مَحَالَةَ فَاشْهَدُوا لِلرَّهْطِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقُتِلُوا فَقَالُوا اللَّهُمَّ بَلِّغْ نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنَّا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم کسی شخص کے متعلق یہ کہنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کہ فلاں شخص شہادت کی موت سے مرا یا مارا گیا ، کیونکہ بعض لوگ مال غنیمت کے حصول کے لئے قتال کرتے ہیں ، بعض اپنا تذکرہ کروانے کے لئے، اور بعض اس لئے جنگ میں شریک ہوتے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنا مقام دکھا سکیں، اگر تم ضرور ہی کسی کے متعلق یہ گواہی دینا چاہتے ہو تو ان لوگوں کے لئے یہ گواہی دے دو جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ میں بھیجا تھا اور وہ شہید ہوگئے تھے اور انہوں نے دعاء کی تھی کہ اے اللہ! ہماری طرف سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیغام پہنچا دیجئے کہ ہم آپ سے مل چکے، آپ ہم سے راضی ہوگئے اور ہمیں اپنے رب سے راضی کر دیا۔

یہ حدیث شیئر کریں