مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1995

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ قَالَ وَأَخْبَرَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ صِلَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ جَاءَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ قَالَ وَأَرَادَا أَنْ يُلَاعِنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ لَا تُلَاعِنْهُ فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَعَنَّا قَالَ خَلَفٌ فَلَاعَنَّا لَا نُفْلِحُ نَحْنُ وَلَا عَقِبُنَا أَبَدًا قَالَ فَأَتَيَاهُ فَقَالَا لَا نُلَاعِنُكَ وَلَكِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَ فَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ حَقَّ أَمِينٍ قَالَ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ قَالَ فَقَالَ قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ قَالَ فَلَمَّا قَفَّا قَالَ هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجران سے ایک مرتبہ عاقب اور سید نامی دو آدمی آئے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے ارادے سے آئے تھے، ان میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ ان سے مباہلہ ( اور ملاعنہ) مت کرو، کیونکہ اگر یہ واقعی نبی ہوئے اور انہوں نے ہمارے ساتھ ملاعنہ کر کے ہم پر لعنت بھیج دی تو ہم اور ہماری نسل کبھی کامیاب نہ ہوسکے گی، چنانچہ وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ سے مباہلہ نہیں کرتے، ہم آپ کو وہ دینے کے لئے تیار ہیں جس کا آپ ، مطالبہ کرتے ہیں ، بس آپ ہمارے ساتھ کسی امانت دار آدمی کو بھیج دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حق دار ہوگا ، یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو عبیدہ بن الجراح! کھڑے ہو جاؤ، جب وہ دونوں واپس جانے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں۔

یہ حدیث شیئر کریں