مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1958

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَجَجْنَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ قَالَ فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَةَ قَالَ فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ لَوْ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَاضَ الْآنَ كَانَ قَدْ أَصَابَ قَالَ فَلَا أَدْرِي كَلِمَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَتْ أَسْرَعَ أَوْ إِفَاضَةُ عُثْمَانَ قَالَ فَأَوْضَعَ النَّاسُ وَلَمْ يَزِدْ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى الْعَنَقِ حَتَّى أَتَيْنَا جَمِيعًا فَصَلَّى بِنَا ابْنُ مَسْعُودٍ الْمَغْرِبَ ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ ثُمَّ تَعَشَّى ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ رَقَدَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ أَوَّلُ الْفَجْرِ قَامَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ مَا كُنْتَ تُصَلِّي الصَّلَاةَ هَذِهِ السَّاعَةَ قَالَ وَكَانَ يُسْفِرُ بِالصَّلَاةِ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَهَذَا الْمَكَانِ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ

عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کرنے کا شرف حاصل ہوا، جب ہم نے عرفات کے میدان میں وقوف کیا اور سورج غروب ہوگیا تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اگر امیرالمومنین اس وقت روانہ ہوجاتے تو بہت اچھا اور صحیح ہوتا، میں نہیں سمجھتا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کاجملہ پہلے پورا ہوا یا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی واپسی پہلے شروع ہوئی، لوگوں نے تیز رفتاری سے جانوروں کو دوڑانا شروع کر دیا لیکن حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کو صرف تیز چلانے پر اکتفاء کیا (دوڑایا نہیں ) یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔

یہ حدیث شیئر کریں