مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1924

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ أَبِي الْيَعْفُورِ عَنْ أَبِي الصَّلْتِ عَنْ أَبِي عَقْرَبٍ قَالَ غَدَوْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ذَاتَ غَدَاةٍ فِي رَمَضَانَ فَوَجَدْتُهُ فَوْقَ بَيْتِهِ جَالِسًا فَسَمِعْنَا صَوْتَهُ وَهُوَ يَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ فَقُلْنَا سَمِعْنَاكَ تَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي النِّصْفِ مِنْ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ غَدَاتَئِذٍ صَافِيَةً لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَوَجَدْتُهَا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ عَنْ أَبِي الصَّلْتِ عَنْ أَبِي عَقْرَبٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ غَدَوْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

ابو عقرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں صبح کے وقت حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انہیں اپنے گھر کی چھت پر بیٹھے ہوئے پایا، ہم نے ان کی آواز سنی کہ وہ کہہ رہے تھے، اللہ نے سچ کہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچا دیا، ہم نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے پوچھا کہ ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اللہ نے سچ کہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچا دیا، اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شب قدر رمضان کی آخری سات راتوں کے نصف میں ہوتی ہے، اور اس رات کے بعد جب صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ بالکل صاف ہوتا ہے، اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی، میں ابھی یہی دیکھ رہا تھا تو میں نے اسے بعینہ اسی طرح پایا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں