حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ الصَّلَاةَ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ هَذِهِ الْأَدْيَانِ أَحَدٌ يَذْكُرُ اللَّهَ هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ قَالَ وَأَنْزَلَ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَتَّى بَلَغَ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ تُكْفَرُوهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں کافی تاخیر کر دی، پھر جب باہر مسجد کی طرف نکلے تو لوگوں کو نماز کا منتطر پایا، نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت روئے زمین پر کسی دین سے تعلق رکھنے والے اللہ کو یاد نہیں کر رہے سوائے تمہارے اور اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ" سب اہل کتاب برابر نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تم جو نیکی کرو گے اس کا انکار نہیں کیا جائے گا اور اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے "
