مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1831

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ إِسْرَائِيلَ بْنَ يُونُسَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ مَوْلَى الْهَمْدَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ لَا يُبَلِّغْنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ قَالَ وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالٌ فَقَسَمَهُ قَالَ فَمَرَرْتُ بِرَجُلَيْنِ وَأَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ وَجْهَ اللَّهِ وَلَا الدَّارَ الْآخِرَةَ فَتَثَبَّتُّ حَتَّى سَمِعْتُ مَا قَالَا ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا لَا يُبَلِّغْنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا وَإِنِّي مَرَرْتُ بِفُلَانٍ وَفُلَانٍ وَهُمَا يَقُولَانِ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَاحْمَرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَقَّ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ دَعْنَا مِنْكَ فَقَدْ أُوذِيَ مُوسَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ صَبَرَ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کوئی شخص مجھے میرے کسی صحابی کے متعلق آکر خبریں نہ دیا کرے کیونکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ جب تمہارے پاس آؤں تو میرا دل ہر ایک کی طرف سے مکمل طور پر صاف ہو، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے مال آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تقسیم فرما دیا، میں دو آدمیوں کے پاس سے گذرا تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے یہ کہا کہ بخدا! یہ تقسیم ایسی ہے جس سے اللہ کی رضاء یا آخرت کا گھر حاصل کرنا مقصود نہیں ہے، میں نے خوب غور سے ان کی بات سنی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ نے یہ فرما رکھا ہے کہ کوئی شخص مجھے میرے کسی صحابی کے متعلق آکر خبریں نہ دیا کرے، ابھی فلاں فلاں آدمی کے پاس سے میرا گذر ہوا تھا، وہ دونوں یہ کہہ رہے تھے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہوگیا، پھر فرمایا موسی پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، انہیں اس سے بھی زیادہ ستایا گیا تھا لیکن انہوں نے صبر ہی کیا تھا۔

یہ حدیث شیئر کریں