حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فَقَالَ إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبْئًا قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ دُخٌّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ لَا إِنْ يَكُنْ الَّذِي نَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ابن صیاد پر گذر ہوا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں نے تیرے بوجھنے کے لئے اپنے ذہن میں ایک بات رکھی ہے، بتا، وہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگا " دخ" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دور رہو، تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکتا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن ماروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، اگر یہ وہی ہے جس کا تمہیں اندیشہ ہے تو تم اسے قتل کرنے پر قادر نہ ہو سکو گے۔
