مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1686

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ قَسْمًا قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَقُلْتُ يَا عَدُوَّ اللَّهِ أَمَا لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قُلْتَ قَالَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چیزیں تقسیم فرمائیں، ایک انصاری کہنے لگا کہ یہ تقسیم ایسی ہے جس سے اللہ کی رضاء حاصل کرنا مقصود نہیں ہے، میں نے اس سے کہا اے دشمن خدا! تو نے جو بات کہی ہے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ضرور دوں گا، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کر دی جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہوگیا، پھر فرمایا موسی علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، انہیں اس سے بھی زیادہ ستایا گیا تھا لیکن انہوں نے صبر ہی کیا تھا۔

یہ حدیث شیئر کریں