حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ اللَّهَ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ يُقَاتِلُونَ عَلَى دِينِهِ فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ وَمَا رَأَوْا سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ سَيِّئٌ
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر فرمائی تو قلب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کوسب سے بہتر پایا اس لئے اللہ نے ان ہی کو اپنے لئے منتخب فرما لیا اور انہیں پیغمبری کا شرف عطاء کر کے مبعوث فرمایا: پھر قلب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نکال کر دوبارہ اپنے بندوں کے دلوں پر نظر فرمائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل کو سب سے بہترین پایا، چنانچہ اللہ نے انہیں اپنے نبی کا وزیر بنا دیا، جوان کے دین کی بقاء کے لئے اللہ کے راستہ میں قتال کرتے ہیں ، اس لئے مسلمان جس چیز کو اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے اور جو چیز مسلمانوں کی نگاہوں میں بری ہو، وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔
