مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1656

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَامِعٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعُ عَبْدٌ زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ لَهُ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَتْبَعُهُ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ فَيَقُولُ أَنَا كَنْزُكَ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ مِصْدَاقَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً يُطَوَّقُهُ فِي عُنُقِهِ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے مال کی زکوۃ روک کر رکھتا ہے اس کے مال کو گنجا سانپ بنا دیا جائے گا، وہ اس سے بچ کر بھاگے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے پیچھے ہوگا اور کہے گا کہ میں ہی تیرا خزانہ ہوں ، پھر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی تائید میں قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت کی کہ عنقریب ان کی گردن میں قیامت کے دن وہ مال و دولت طوق بنا کر ڈالاجائے گا جس میں وہ بخل کرتے تھے۔

یہ حدیث شیئر کریں