مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1626

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ سُئِلَ قَالَ حَسَنٌ سَأَلْتُ عِكْرِمَةَ عَنِ الصَّائِمِ أَيَحْتَجِمُ فَقَالَ إِنَّمَا كُرِهَ لِلضَّعْفِ وَحَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَسَنٌ ثُمَّ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ أَكْلَةٍ أَكَلَهَا مِنْ شَاةٍ مَسْمُومَةٍ سَمَّتْهَا امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ آخِرُ أَحَادِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی اور اس کی وجہ زہریلی بکری کا وہ لقمہ تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا لیا تھا اور خیبر کی ایک عورت نے اس میں زہر ملا دیا تھا ۔
تنبیہ : یہاں آکر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی مرویات مکمل ہو گئیں، آگے مسند کو عبداللہ بن احمد رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرنے والے ابوبکرا لقطیعی رحمۃ اللہ علیہ کی کچھ احادیث آرہی ہیں جوجزء ثالث کے آخر میں تھیں
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر آپ کے احرام باندھنے سے قبل جانوروں کے گلے میں ڈالنے والے ہاروں کی رسیاں بٹا کرتی تھی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فروح و ریحان کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابوبکر رضی اللہ عنہ غار میں میرے ساتھ اور مونس رہے، مسجد میں کھلنے والی ہر کھڑکی کو بند کر دو سوائے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کھڑکی کے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کا ایک ایک آدمی لوگوں کی ایک بڑی جماعت کی سفارش کرے گا اور وہ سب اس کی سفارش سے جنت میں داخل ہوں گے اور ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی کسی شخص کے لئے اور اس کے اہل خانہ کے لئے سفارش کرے گا اور وہ سب بھی اس کی سفارش سے جنت میں داخل ہوں گے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے ہمارے یہاں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سوائے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کوئی دوسرا کھچڑی بالوں والا نہ تھا، بعد میں وہ مہندی اور وسمہ سے انہیں رنگنے لگے تھے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسح علی الخفین کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مقیم کے لئے ایک دن اور رات اور مسافر کے لئے تین دن اور راتیں اجازت ہے۔
حضرت جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن جو شخص تم سے یہ بیان کرے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے سنا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے، کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلتے اور لوگوں کی تعداد کم دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ جاتے، پھر جب لوگ زیادہ ہوجاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمانے لگتے۔
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت انصار کے دو گھروں کے درمیان یا اپنے والدین کے یہاں مہمان بنے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

یہ حدیث شیئر کریں