مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1507

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْلَى وَمُحَمَّدٌ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ تَعُدُّونَ أَوَّلَ قَالُوا قِرَاءَةَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَا بَلْ هِيَ الْآخِرَةُ كَانَ يُعْرَضُ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عُرِضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فَشَهِدَهُ عَبْدُ اللَّهِ فَعَلِمَ مَا نُسِخَ مِنْهُ وَمَا بُدِّلَ

مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہم سے پوچھا کہ حتمی قراءت کون سی ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی؟ ہم نے عرض کیا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی، فرمایا نہیں ، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دور فرمایا اور حتمی قراءت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تھی۔

یہ حدیث شیئر کریں