مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1456

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ سَمِعَهُ مِنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ يَتَهَجَّدُ مِنْ اللَّيْلِ قَالَ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ حَقٌّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے درمیان نماز تہجد پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے اے اللہ! تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ ہی زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام چیزوں کو روشن کرنے والے ہیں اور تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام چیزوں کو قائم رکھنے والے ہیں اور تمام تعریفیں اللہ آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کے بادشاہ ہیں ، آپ برحق ہیں، آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، جنت برحق ہے، جہنم برحق ہے اور قیامت برحق ہے، اے اللہ! میں آپ کے تابع فرمان ہوگیا، آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں ، آپ ہی کو اپنا ثالث بناتا ہوں ، اس لئے میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ ہی ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔

یہ حدیث شیئر کریں