مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 344

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا كَانَ بَدْءُ الْإِيضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانُوا يَقِفُونَ حَافَتَيْ النَّاسِ حَتَّى يُعَلِّقُوا الْعِصِيَّ وَالْجِعَابَ وَالْقِعَابَ فَإِذَا نَفَرُوا تَقَعْقَعَتْ تِلْكَ فَنَفَرُوا بِالنَّاسِ قَالَ وَلَقَدْ رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ ذِفْرَىْ نَاقَتِهِ لَيَمَسُّ حَارِكَهَا وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سواریوں کو تیز کرنے کا آغاز دیہاتی لوگوں کی طرف سے ہوتا، یہ لوگ کناروں پر ٹھہرے ہوئے تھے تاکہ اپنی لاٹھیاں، ترکش اور پیالے لٹکا سکیں، جب انہوں نے کوچ کیا تو ان چیزوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے، انہوں نے کوچ کیا تو لوگوں کے ساتھ کیا تھا (لیکن مذکورہ طریقے سے) اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے دونوں کانوں کا پچھلا حصہ فیل بان کو چھوہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ لوگو! سکون اختیار کرو، لوگو! سکون اور وقار اختیار کرو۔

یہ حدیث شیئر کریں