مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1574

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى دَخَلَ نَخْلًا فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى خِفْتُ أَوْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ تَوَفَّاهُ أَوْ قَبَضَهُ قَالَ فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ مَا لَكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِي أَلَا أُبَشِّرُكَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لَكَ مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي الْحُوَيْرِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا مِنْ الْمَسْجِدِ فَاتَّبَعْتُهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، میں بھی پیچھے پیچھے چلا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوگئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کردی اور اتنا طویل سجدہ کیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں آپ کی روح تو قبض نہیں ہوگئی۔ میں دیکھنے کے لئے آگے بڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر فرمایا عبدالرحمن! کیا ہوا؟ میں نے اپنا اندیشہ ذکر کر دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبرئیل نے مجھ سے کہا ہے کہ کیا میں آپ کو خوشخبری نہ سناؤں؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص آپ پر درود بھیجے گا، میں اس پر اپنی رحمت نازل کروں گا اور جو شخص آپ پر سلام پڑھے گا میں اس پر سلام پڑھوں گا یعنی اسے سلامتی دوں گا۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں