حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَهِدْتُ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ مَعَ عُمُومَتِي وَأَنَا غُلَامٌ فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّي أَنْكُثُهُ قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصِبْ الْإِسْلَامُ حِلْفًا إِلَّا زَادَهُ شِدَّةً وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَقَدْ أَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں اپنے چچاؤں کے ساتھ جبکہ ابھی میں نوعمر تھا حلف المطیبیب جسے حلف الفضول بھی کہا جاتا ہے میں شریک ہوا تھا، مجھے یہ پسند نہیں کہ میں اس معاہدے کو توڑ ڈالوں اگرچہ مجھے اس کے بدلے میں سرخ اونٹ بھی دیئے جائیں، امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اسلام نے جو بھی معاہدہ کیا اس کی شدت میں اضافہ ہی ہوا ہے اور اسلام اس کا قائل نہیں ہے، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور انصار کے درمیان مواخات قائم فرما دی تھی۔
