حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ الطِّيَرَةِ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ مَنْ حَدَّثَكَ فَكَرِهْتُ أَنْ أُحَدِّثَهُ مَنْ حَدَّثَنِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَ إِنْ تَكُنِ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلَا تَهْبِطُوا وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَفِرُّوا مِنْهُ
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات میرے ان کانوں نے سنی ہے اور میرے دل نے اسے محفوظ کیا ہے کہ جو شخص حالت اسلام میں اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا باپ قرار دیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے، حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے میرے بھی کانوں نے سنا ہے اور دل نے اسے محفوظ کیا ہے۔
