حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ الْأَسْلَمِيُّ عَنِ الْمُطَّلِبِ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ جَاءَهُ ابْنُهُ عَامِرٌ فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ أَفِي الْفِتْنَةِ تَأْمُرُنِي أَنْ أَكُونَ رَأْسًا لَا وَاللَّهِ حَتَّى أُعْطَى سَيْفًا إِنْ ضَرَبْتُ بِهِ مُؤْمِنًا نَبَا عَنْهُ وَإِنْ ضَرَبْتُ بِهِ كَافِرًا قَتَلَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ التَّقِيَّ
عمربن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے بھائی عامر مدینہ منورہ سے باہر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے بکریوں کے فارم میں چلے گئے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا بیٹا! کیا تم مجھے شورش کے کاموں کا سر غنہ بننے کے لئے کہتے ہو؟ بخدا! ایسا نہیں ہو سکتا کہ میرے ہاتھ میں تلوار پکڑا دی جائے اور میں اس سے کسی مومن کو قتل کردوں تو وہ اس کی خبر دے اور اگر کسی کافر کو قتل کردوں تو وہ بھی اس پر پل پڑے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتے ہیں جو متقی ہو، بے نیاز ہو اور اپنے آپ کو مخفی رکھنے والا ہو۔
