مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1360

حضرت زبیربن عوام رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ أَوْ مَسْلَمَةَ قَالَ كَثِيرٌ وَحِفْظِي سَلِمَةَ عَنْ عَلِيٍّ أَوْ عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا فَيُذَكِّرُنَا بِأَيَّامِ اللَّهِ حَتَّى نَعْرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَكَأَنَّهُ نَذِيرُ قَوْمٍ يُصَبِّحُهُمْ الْأَمْرُ غُدْوَةً وَكَانَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ لَمْ يَتَبَسَّمْ ضَاحِكًا حَتَّى يَرْتَفِعَ عَنْهُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ یا حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں نصیحت فرماتے تھے اور اللہ کے عذاب سے ڈراتے تھے تو اس کے اثرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر دکھائی دیتے تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ اس قوم کو ڈرا رہے ہیں جن کا معاملہ صبح صبح ہی طے ہوجائے گا اور جب حضرت جبرئیل علیہ السلام سے عنقریب ملاقات ہوئی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک نہ ہنستے تھے جب تک وحی کی کیفیت کے اثرات ختم نہ ہوجاتے۔

یہ حدیث شیئر کریں