مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1349

حضرت زبیربن عوام رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ يَوْمَ الْأَحْزَابِ جُعِلْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ مَعَ النِّسَاءِ فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِالزُّبَيْرِ عَلَى فَرَسِهِ يَخْتَلِفُ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً فَلَمَّا رَجَعَ قُلْتُ يَا أَبَتِ رَأَيْتُكَ تَخْتَلِفُ قَالَ وَهَلْ رَأَيْتَنِي يَا بُنَيَّ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يَأْتِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَيَأْتِيَنِي بِخَبَرِهِمْ فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا رَجَعْتُ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ فَقَالَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ " اطم حسان" نامی اس ٹیلے پر تھے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات موجود تھیں (کبھی وہ مجھے اٹھا کر اونچا کرتے اور کبھی میں انہیں اٹھا کر اونچا کرتا ) جب وہ مجھے اٹھا کر اونچا کرتے تو میں اپنے والد صاحب کو پہچان لیا کرتا جب وہ بنو قریظہ کے پاس سے گذرتے تھے، واپسی پر میں نے اپنے والد صاحب سے عرض کیا کہ اباجان! بخدا! میں نے اس وقت آپ کو پہچان لیا تھا جب آپ گھوم رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ بیٹے! انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ بنو قریظہ کے پاس جا کر ان کی خبر میرے پاس کون لائے گا؟ میں چلا گیا اور جب واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر میرے لئے اپنے والدین کو جمع کر کے یوں فرما رہے تھے کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ۔

یہ حدیث شیئر کریں