مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1329

حضرت طلحہ بن عبیدالہ رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلَيْنِ قَدِمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ إِسْلَامُهُمَا جَمِيعًا وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنْ صَاحِبِهِ فَغَزَا الْمُجْتَهِدُ مِنْهُمَا فَاسْتُشْهِدَ ثُمَّ مَكَثَ الْآخَرُ بَعْدَهُ سَنَةً ثُمَّ تُوُفِّيَ قَالَ طَلْحَةُ فَرَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ إِذَا أَنَا بِهِمَا وَقَدْ خَرَجَ خَارِجٌ مِنْ الْجَنَّةِ فَأَذِنَ لِلَّذِي تُوُفِّيَ الْآخِرَ مِنْهُمَا ثُمَّ خَرَجَ فَأَذِنَ لِلَّذِي اسْتُشْهِدَ ثُمَّ رَجَعَا إِلَيَّ فَقَالَا لِي ارْجِعْ فَإِنَّهُ لَمْ يَأْنِ لَكَ بَعْدُ فَأَصْبَحَ طَلْحَةُ يُحَدِّثُ بِهِ النَّاسَ فَعَجِبُوا لِذَلِكَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِنْ أَيِّ ذَلِكَ تَعْجَبُونَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا كَانَ أَشَدَّ اجْتِهَادًا ثُمَّ اسْتُشْهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدَخَلَ هَذَا الْجَنَّةَ قَبْلَهُ فَقَالَ أَلَيْسَ قَدْ مَكَثَ هَذَا بَعْدَهُ سَنَةً قَالُوا بَلَى وَأَدْرَكَ رَمَضَانَ فَصَامَهُ قَالُوا بَلَى وَصَلَّى كَذَا وَكَذَا سَجْدَةً فِي السَّنَةِ قَالُوا بَلَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ فَلَمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ

حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں نے اکٹھے ہی اسلام قبول کیا، ان میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی کے مقابلے میں بہت محنت کرتا تھا ، یہ شخص جو بہت محنت کرتا تھا ایک غزوہ میں شریک ہو کر شہید ہوگیا، دوسرا شخص اس کے بعد ایک سال تک زندہ رہا، پھر طبعی وفات سے انتقال کر گیا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت کے دروازے کے قریب ہوں، اچانک وہ دونوں مجھے دکھائی دیتے ہیں، جنت سے ایک آدمی باہر نکلتا ہے اور بعد میں فوت ہونے والے کو اندر داخل ہونے کی اجازت دے دیتا ہے ، تھوری دیربعد باہر آکر وہ شہید ہونے والے کو بھی اجازت دے دیتا ہے ، پھر وہ دونوں میرے پاس آتے ہیں اور مجھ سے کہتے ہیں کہ آپ ابھی واپس چلے جائیں ابھی آپ کا وقت نہیں آیا۔ جب صبح ہوئی اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے سامنے یہ خواب ذکر کیا تو لوگوں کو بہت تعجب ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں کس بات پر تعجب ہو رہا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ شخص زیادہ محنت کرتا تھا، پھر اللہ کے راستہ میں شہید بھی ہوا، اس کے باوجود دوسرا آدمی جنت میں پہلے داخل ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ اس کے بعد ایک سال تک زندہ نہیں رہا تھا؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، پھر فرمایا کیا اس نے رمضان کا مہینہ پا کر اس کے روزے نہیں رکھے تھے؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، پھر فرمایا کیا اس نے سال میں اتنے سجدے نہیں کئے ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، اس پر فرمایا کہ اسی وجہ سے تو ان دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فاصلہ ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں