حضرت طلحہ بن عبیدالہ رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ نَزَلَ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مَكَثَ الْآخَرُ بَعْدَهُ سَنَةً ثُمَّ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ فَأُرِيَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ الَّذِي مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْآخَرِ بِحِينٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ طَلْحَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ مَكَثَ فِي الْأَرْضِ بَعْدَهُ قَالَ حَوْلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى أَلْفًا وَثَمَانِ مِائَةِ صَلَاةٍ وَصَامَ رَمَضَانَ
ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ یمن کے دو آدمی حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں مہمان بنے، ان میں سے ایک صاحب تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہید ہوگئے اور دوسرے صاحب ان کے بعد ایک سال مزید زندہ رہے اور بالآخر طبعی موت سے رخصت ہوگئے، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ اپنی طبعی موت مرنے والا اپنے دوسرے ساتھی سے کافی عرصہ قبل ہی جنت میں داخل ہوگیا ہے، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ خواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ یہ دوسرا آدمی اپنے پہلے ساتھی کے بعد کتنا عرصہ تک زمین پر زندہ رہا؟ انہوں نے بتایا کہ ایک سال تک، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے ایک ہزار آٹھ سو نماز یں پڑھیں اور ماہ رمضان کے روزے الگ رکھے۔ (آخر ان کا ثواب بھی تو ہوگا)
