مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1312

حضرت طلحہ بن عبیدالہ رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَى عُمَرُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ثَقِيلًا فَقَالَ مَا لَكَ يَا أَبَا فُلَانٍ لَعَلَّكَ سَاءَتْكَ إِمْرَةُ ابْنِ عَمِّكَ يَا أَبَا فُلَانٍ قَالَ لَا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا مَا مَنَعَنِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْهُ إِلَّا الْقُدْرَةُ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ عِنْدَ مَوْتِهِ إِلَّا أَشْرَقَ لَهَا لَوْنُهُ وَنَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَتَهُ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَا هِيَ قَالَ وَمَا هِيَ قَالَ تَعْلَمُ كَلِمَةً أَعْظَمَ مِنْ كَلِمَةٍ أَمَرَ بِهَا عَمَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ طَلْحَةُ صَدَقْتَ هِيَ وَاللَّهِ هِيَ

یحیی بن طلحہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرمایا کہ کیا بات ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد سے آپ پراگندہ حال اور غبار آلود رہنے لگے ہیں؟ کیا آپ کو اپنے چچا زاد بھائی کی یعنی میری خلافت اچھی نہیں لگی؟ انہوں نے فرمایا بات یہ ہے نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص نزع کی حالت میں وہ کلمہ کہہ لے تو قیامت کے دن وہ اس کے لئے باعث نور ہو، (مجھے افسوس ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کلمے کے بارے میں پوچھ نہیں سکا، اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نہیں بتایا، میں اس وجہ سے پریشان ہوں) ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں وہ کلمہ جانتا ہوں، حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ وہ کیا کلمہ ہے؟ فرمایا وہی کلمہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کے سامنے پیش کیا تھا یعنی لا الہ الا اللہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ آپ نے سچ فرمایا۔

یہ حدیث شیئر کریں