مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1185

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَحُسَيْنٌ وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِفَاطِمَةَ لَوْ أَتَيْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا فَقَدْ أَجْهَدَكِ الطَّحْنُ وَالْعَمَلُ قَالَ حُسَيْنٌ إِنَّهُ قَدْ جَهَدَكِ الطَّحْنُ وَالْعَمَلُ وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ قَالَتْ فَانْطَلِقْ مَعِي قَالَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهَا فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ ذَلِكَ إِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرَاهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَتِلْكَ مِائَةٌ عَلَى اللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تَرَكْتُهَا بَعْدَمَا سَمِعْتُهَا مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ آٹا پیس پیس کر تمہارے ہاتھوں میں نشان پڑ گئے ہیں، اگر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ان سے ایک خادم کی درخواست کر تیں (تو شاید کچھ بہتر ہو جاتا) انہوں نے کہا کہ آپ بھی میرے ساتھ چلیں، چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا اور ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے درخواست پیش کردی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو ، کہنے کو تو یہ سو ہوں گے لیکن میزان عمل میں ایک ہزار کے برابر ہوں گے، چنانچہ اس دن کے بعد سے میں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا، ایک سائل نے پوچھا کہ جنگ صفین کی رات بھی نہیں؟ فرمایا ہاں ! جنگ صفین کی رات بھی نہیں ۔

یہ حدیث شیئر کریں