اور حضرت ابورافع کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمسایہ اپنے قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ حقدار ہے (بخاری)
تشریح :
مطلب یہ ہے کہ ہمسایہ شفعہ کا زیادہ حق دار ہے اور یہ پہلے بتایا جا……
اور حضرت ابورافع کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمسایہ اپنے قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ حقدار ہے (بخاری)
تشریح :
مطلب یہ ہے کہ ہمسایہ شفعہ کا زیادہ حق دار ہے اور یہ پہلے بتایا جا……
اور حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی ہمسایہ اپنے دوسرے ہمسایہ کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے ( بخاری ومسلم)
تشریح :
منع نہ کرنے کا یہ حکم اس صورت……
اور حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب راستہ کی بابت تم میں اختلاف ہو جائے تو اس کی چوڑائی سات ہاتھ متعین کر دو (مسلم)
تشریح :
مطلب یہ ہے کہ اگر کسی افتادہ زمین پر راستہ……
حضرت سعید بن حریث کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص اپنا مکان یا زمین فروخت کرے تو مناسب یہ ہے کہ اس کی قیمت میں برکت نہ ہو الاّ یہ کہ وہ اس قیمت……
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمسایہ اپنے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے اگر وہ موجود نہ ہو تو اس کے شفعہ کی وجہ سے اس کا انتظار کیا جاۓ اور ہمسایہ شفعہ کا اس صورت میں حق دار……
اور حضرت ابن عباس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جو فروخت کی جانیوالی جائیداد میں شریک ہو شفعہ کا حق رکھتا ہے اور شفعہ کا تعلق ہر اس چیز سے ہے جو……
اور حضرت عبداللہ ابن حبیش کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بیری کا درخت کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے الٹے سر دوزخ میں ڈالے گا امام ابوداؤد نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے……
حضرت عثمان ابن عفان فرماتے ہیں کہ جب زمین میں حدیں قائم ہو جائیں یعنی مشترک زمین شرکاء میں باہم تقسیم ہو جائے اور ہر ایک کے حصے الگ الگ ہو جائیں تو شرکت کا شفعہ باقی نہیں رہتا اور نہ کنویں میں شفعہ……
مساقات کی صورت یہ ہے کہ مثلا زید اپنا باغ یا اپنے کچھ درخت بکر کو اس شرط کے ساتھ دے کہ تم ان درختوں کو سیراب کرنا ان کی دیکھ بھال کرنا پھر ان پر جو پھل آئیں گے ان کو آدھوں آدھ یا تہائی یا چوتھائی وغیرہ……
حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی کھجوروں کے درخت اور وہاں کی زمین اس شرط پر خیبر کے یہودیوں کے حوالہ کر دی کہ وہ اس میں اپنی جان اور اپنا مال لگائیں اور اس کا……