مسدد، یحیی ، ابی یونس، حاتم بن ابی صغیرہ، ابن ابی ملیکہ، قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کا حساب کیا جائے……
جلد دوم
صحیح بخاری – جلد دوم – تفاسیر کا بیان – حدیث 2161
(آیت) ترجمہ کہ تم ضرور ایک حالت سے دوسری حالت پر سوار ہوں گے۔
سعید بن نضر، ہشیم، ابوبشر، جعفر بن ایاس، مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس نے ( لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ)……
صحیح بخاری – جلد دوم – تفاسیر کا بیان – حدیث 2167
تفسیر سورہ بروج !
اور مجاہد نے کہا کے ”اخدود “بمعنے ”شق فی الا رض “ (زمین کی دراڑیں ) ہے ” فتوا “ بمعنی عذبو اعذاب دیئے گئے ۔……
صحیح بخاری – جلد دوم – تفاسیر کا بیان – حدیث 2163
تفسیر سورئہ طارق
اور مجاہد نے کہا کہ ” ذات الرجع “ سے مراد وہ بدلی ہے ‘ جو بارش کے ساتھ لوٹ آتی ہے ”ذات الصدع“ زمین کہ سبزہ اگنے کی جگہ سے پھٹ جاتی ہے ۔……
صحیح بخاری – جلد دوم – تفاسیر کا بیان – حدیث 2164
عبدان، عبدان کے والد، شعبہ، ابواسحاق، حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جو سب سے پہلے ہمارے پاس پہنچے تو وہ مصعب بن عمیر رضی اللہ……
صحیح بخاری – جلد دوم – تفاسیر کا بیان – حدیث 2165
تفسیر سورہ غاشیہ !
اور ابن عباس نے کہا ”عاملتہ ناصبة “(کام کرنے والے تھکے ہوئے ) مراد نصاری ہیں اور مجاہد نے ”عین انیة سے بہت گرم اور لباب بھرا ہوا چشمہ مراد لیا ہے ”حمیم ان “ اس کے برتن بھرے ہوئے……
صحیح بخاری – جلد دوم – تفاسیر کا بیان – حدیث 2166
تفسیر سورہ والفجر!
اور مجاہد نے کہا ”وتر “ سے مراد اللہ تعالیٰ سے ”ارم ذات العماد “سے قدیم قومیں مراد ہیں ‘ اور عماد سے ستونوں والے کہ ایک جگہ قیام نہیں کرتے تھے ”سوط عذاب “سے مراد وہ عذاب ہے ‘جس……
صحیح بخاری – جلد دوم – تفاسیر کا بیان – حدیث 2167
تفسیر سورة”لااقسم “!
مجاہد نے کہا ”بھذا البد“ سے مراد مکہ ہے ‘یعنی تم پر وہ گناہ نہیں جو دوسروں پر ہے ”ووالد سے آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد مراد ہے ‘ ”لبدا“ بمعنی کثیر ” نجدین “ سے مراد خیر……
صحیح بخاری – جلد دوم – تفاسیر کا بیان – حدیث 2168
موسی بن اسماعیل، وہیب، ہشام اپنے والد سے، وہ عبداللہ بن زمعہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا تو آپ نے اونٹنی کا اور اس شخص کا ذکر کیا۔ جس نے اونٹنی کی کونچیں……
صحیح بخاری – جلد دوم – تفاسیر کا بیان – حدیث 2169
قبیصہ بن عقبہ، سفیان، اعمش، ابراہیم، علقمہ کہتے ہیں کہ میں عبیداللہ کے چند ساتھیوں کے ساتھ شام پہنچا، ابوالدرداء نے جب ہم لوگوں کے آنے کی خبر سنی، تو وہ ہمارے پاس آئے اور کہا تم میں کوئی ہے جو قرآن……
