حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جو شخص لوگوں کے درمیان قاضی مقرر کیا گیا (گویا ) اس کو بغیر چھری کے ذبح کیا گیا ۔ (احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ )
تشریح :
"……
حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جو شخص لوگوں کے درمیان قاضی مقرر کیا گیا (گویا ) اس کو بغیر چھری کے ذبح کیا گیا ۔ (احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ )
تشریح :
"……
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جو شخص (اپنے دل میں ) منصب وقضا کی طلب وخواہش کرے اور پھر (سربراہ مملکت سے ) اس کا خواستگار ہو (یہاں تک کہ اس کی خواست گاری پر اس کو قاضی……
اور حضرت بریدہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں ایک طرح کے تو جنت میں جانے والے اور دو طرح کے دوزخ میں جانے والے !لہٰذا جنت میں جانے والا قاضی تو وہ شخص……
اور حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان (معاذ ) کو (قاضی وحاکم بنا کر ) یمن بھیجا تو ان سے (بطور امتحان ) پوچھا کہ جب تمہارے سامنے کوئی قضیہ پیش ہوگا تو تم کس طرح فیصلہ……
اور حضرت علی کہتے ہیں کہ (جب ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قاضی بنا کر بھیجنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا کہ آپ مجھ نوجوان کو (قاضی بنا کر ) بھیج رہے ہیں (جو کم عمری کی وجہ سے ناتجربہ کار بھی……
حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ہر وہ حاکم جو لوگوں پر اپنا حکم وفیصلہ جاری ونافذ کرتا ہے قیامت کے دن (ا حکم الحاکمین کی بارگاہ میں) اس طرح پیش کیا جائے……
اور حضرت عائشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " قیامت کے دن (جب حاکموں ، سرداروں ، اور قانون وانصاف کے ذمہ داروں سے سخت مؤ اخذہ ہو رہا ہوگا تو ) عادل……
اور حضرت عبداللہ ابن ابی اوفیٰ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " قاضی جب تک ظلم و ناانصافی کی راہ اختیار نہیں کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے یعنی حق تعالیٰ کی توفیق وتائید……
اور حضرت ابن موہب کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ابن عفان نے (اپنے زمانہ خلافت میں حضرت ابن عمر سے کہا کہ " لوگوں کا قاضی بن جاؤ (یعنی حضرت عثمان نے حضرت ابن عمر کی خدمت میں منصب قضا کی پیش کش کی ) حضرت ابن……
اس باب میں یہ بیان ہوگا کہ حکام وعمال کے لئے بیت المال سے بطور تنخواہ واجرت کچھ مقرر کیا جائے یا نہیں اور یہ کہ اگر کوئی شخص حاکم کے لئے بطور ہدیہ وتحفہ کوئی چیز لائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟……