طلحہ بن مصرف یامی بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے دریافت کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی انہوں نے جواب دیا نہیں میں نے پوچھا پھر لوگوں پر وصیت کرنا لازم کیوں کیا گیا……
سنن دارمی
سنن دارمی – جلد دوم – وصیت کا بیان۔ – حدیث 1010
قتادہ کے بارے میں منقول ہے انہوں نے یہ آیت تلاوت کی۔ تو اگر وہ بھلائی چھوڑ کر جارہا ہو تو والدین اور قریبی رشتہ داروں کے بارے میں مناسب طور پر وصیت کردے یہ بات متقین پر لازم ہے۔ قتادہ فرماتے ہیں یہاں……
سنن دارمی – جلد دوم – وصیت کا بیان۔ – حدیث 1011
محمد بن سیرین کے بارے میں منقول ہے انہوں نے وہ ہی وصیت کی تھی جو محمد بن ابی عمرہ نے اپنے بچوں اور اہل خانہ کو کی تھی۔ اور وہ قرآن کی یہ آیت تھی۔ اللہ سے ڈرو اور اپنے درمیان اصلاح قائم رکھو اللہ اور……
سنن دارمی – جلد دوم – وصیت کا بیان۔ – حدیث 1012
انس بیان کرتے ہیں پہلے اس طرح کی وصیت کی جاتی تھی یہ وہ وصیت ہے جو فلاں بن فلاں نے کی ہے اور وہ یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور وہ ہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور بے……
سنن دارمی – جلد دوم – وصیت کا بیان۔ – حدیث 1013
مکحول کے بارے میں منقول ہے کہ جب انہوں نے وصیت کی تو یہ بولے میں اس بات کی گواہی دیتاہوں اور تم بھی اس پر گواہی دو ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور وہی ایک معبود ہے اور……
سنن دارمی – جلد دوم – وصیت کا بیان۔ – حدیث 1014
ابوحیان تیمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت ربیع بن خثیم نے یہ وصیت تحریر کی تھی۔ اللہ کے نام سے آغاز کرتا ہوں وہ جو رحمن اور رحیم ہے۔
یہ وہ وصیت ہے جو ربیع بن خیثم نے کی ہے وہ اس پر اللہ کو گواہ……
سنن دارمی – جلد دوم – وصیت کا بیان۔ – حدیث 1015
ہشام اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک بیمار آدمی کے پاس تشریف لے گئے لوگوں نے ان کے سامنے وصیت کا تذکرہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا اللہ نے ارشاد فرمایا ہے……
سنن دارمی – جلد دوم – وصیت کا بیان۔ – حدیث 1016
ہشام اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابوطالب اپنی قوم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی عیادت کے لئے اس کے ہاں گئے اس نے دریافت کیا میں وصیت کردوں حضرت علی نے فرمایا نہیں۔ تم……
سنن دارمی – جلد دوم – وصیت کا بیان۔ – حدیث 1017
ابراہیم فرماتے ہیں کوئی شخص وصیت کرے اور اس کے ورثاء موجود ہوں اور وہ اس کا اقرار کرلیں تو یہ بات جائز نہیں ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں یعنی اس شخص کے فوت ہوجانے کے بعد ان ورثاء کا وصیت سے انکار کرنا……
سنن دارمی – جلد دوم – وصیت کا بیان۔ – حدیث 1018
شعبہ بیان کرتے ہیں میں نے حکم اور حماد سے سوال کیا جو اولیاء وصیت کو درست قرار دیدیں اور پھر وصیت کرنے والے شخص کو فوت ہونے کے بعد اسے درست قرار نہ دیں تو حکم اور حماد دونوں نے جواب دیا یہ جائز نہیں……
