حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک بکری مرگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ تم نے اسے دباغت کیوں نہیں دی؟……
جلد دوم
مسند احمد – جلد دوم – حدیث 1602
ابو مجلز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا مجھے یاد نہیں رہا کہ میں نے چھ کنکریاں ماری ہیں یا سات؟ فرمایا مجھے بھی معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرات کو……
مسند احمد – جلد دوم – حدیث 1603
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی، راوی کہتے ہیں کہ یہ کسی تکلیف کی بناء پر تھا۔……
مسند احمد – جلد دوم – حدیث 1604
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر اپنے سر سے خون نکلوایا۔……
مسند احمد – جلد دوم – حدیث 1605
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون……
مسند احمد – جلد دوم – حدیث 1606
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے اور اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے تھے جب کہ حضرت ابن عباس رضی الہ عنہ ایک ایک مرتبہ دھوتے تھے……
مسند احمد – جلد دوم – حدیث 1607
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہ زمزم پر تشریف لائے، ہم نے ایک ڈول کھینچ کر پانی نکالا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور اس ڈول میں کلی کر……
مسند احمد – جلد دوم – حدیث 1608
ایک دیہاتی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ آل معاویہ لوگوں کو پانی اور شہد پلاتی ہے، آل فلاں دودھ پلاتی ہے اور آپ لوگ نبیذ پلاتے ہیں ؟ کسی بخل کی وجہ سے یا ضرورت مندی کی……
مسند احمد – جلد دوم – حدیث 1609
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمزم کے کنوئیں پر تشریف لائے، ہم نے انہیں اس کا پانی پلایا تو انہوں نے کھڑے کھڑے اسے نوش فرما لیا۔……
مسند احمد – جلد دوم – حدیث 1610
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے نکاح میں پھوپھی بھتیجی اور خالہ، بھانجی کو جمع کرے۔……
