ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن زبیر سے کہا کہ مٹکے کی نبیذ کے متعلق ہمیں فتوی دیجیے انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ممانعت کرتے ہوئے سنا ہے۔……
جلد ششم
مسند احمد – جلد ششم – حدیث 1922
حضرت ابن زبیر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز کے آغاز میں رفع یدین کیا یہاں تک کہ کانوں سے آگے ہاتھوں کو بڑھالیا۔ حضرت ابن زبیر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ……
مسند احمد – جلد ششم – حدیث 1923
حضرت ابن زبیر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تو اپناداہنا ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھ لیتے شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنی نگاہیں اس اشارے سے……
مسند احمد – جلد ششم – حدیث 1924
حضرت عبداللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے ایک جھوٹی قسم ان الفاظ کے ساتھ کھائی اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں تو اس کے یہ کلمہ توحید پڑھنے کی برکت سے……
مسند احمد – جلد ششم – حدیث 1925
حضرت ابن زبیر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا تم اپنے باپ کے سب سے بڑے بیٹے ہو اس لئے ان کی طرف سے حج کرو۔……
مسند احمد – جلد ششم – حدیث 1926
ابواسحق بن یسار کہتے ہیں کہ ہم اس وقت مکہ مکرمہ میں ہی تھے جب حضرت عبداللہ بن زبیر ہمارے یہاں تشریف لائے انہوں نے ایک ہی سفر میں حج وعمرہ کو اکٹھا کرنے سے منع فرمایا حضرت ابن عباس کو معلوم ہوا تو انہوں……
مسند احمد – جلد ششم – حدیث 1927
مصعب بن ثابت کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن زبیر اور ان کے بھائی عمرو بن زبیر میں کچھ جھگڑا چل رہا تھا اس دوران حضرت عبداللہ بن زبیر ایک مرتبہ سعید بن عاص کے پاس گئے ان کے ساتھ تخت پر عمرو بن زبیر بھی بیٹھے……
مسند احمد – جلد ششم – حدیث 1928
ابوزبیر کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر ہر نماز کا سلام پھیرنے کے بعد فرمایا کرتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی کی حکومت ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفیں……
مسند احمد – جلد ششم – حدیث 1929
حضرت عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ آیت قرآنی اپنی آوازوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آوازں سے اونچا نہ کیا کرو کے نزول کے بعد حضرت عمر جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کرتے تو اتنی پست آواز……
مسند احمد – جلد ششم – حدیث 1930
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عبداللہ بن عقبہ بن مسعود کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر کا خط آیا حضرت ابن زبیر نے انہیں اپنی طرف سے قاضی مقرر کر رکھا تھا اس خط میں لکھا تھا کہ حمدوصلوۃ……
