حضرت انس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ بہت کم کوئی رات ایسی گذرتی ہے جس میں مجھے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب نہ ہوتی ہو، یہ کہتے ہوئے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے……
جلد پنجم
مسند احمد – جلد پنجم – حدیث 2232
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انصار اکٹھے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم کب تک کنوؤں سے پانی کھینچ کر لاتے رہیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلتے ہیں……
مسند احمد – جلد پنجم – حدیث 2233
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے، اس وقت گھر میں میرے، والد اور میری خالہ ام حرام کے علاوہ کوئی نہ تھا، نماز کا وقت نہ تھا لیکن نبی صلی اللہ……
مسند احمد – جلد پنجم – حدیث 2234
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا فوت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے……
مسند احمد – جلد پنجم – حدیث 2235
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، میں اور ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کے ہمراہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب اور ام……
مسند احمد – جلد پنجم – حدیث 2236
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ نماز کے بعد کوئی جانے والا عوالی جانا چاہتا تو وہ جا کر واپس آجاتا پھر بھی سورج بلند ہوتا تھا۔……
مسند احمد – جلد پنجم – حدیث 2237
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہوتا ہے۔……
مسند احمد – جلد پنجم – حدیث 2238
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور عرب کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے، پھر اسے ترک فرما دیا۔……
مسند احمد – جلد پنجم – حدیث 2239
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن شراب حرام ہوئی میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا وہ آدمی کو پلا رہا تھے، جب اس کی حرمت معلوم ہوئی تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ تمہارے برتن میں جتنی جتنی……
مسند احمد – جلد پنجم – حدیث 2240
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں ایک آدمی " جس کی عقل میں کچھ کمزوری تھی " خرید و فروخت کیا کرتا تھا (اور دھوکہ کھاتا تھا) اس کے اہل خانہ نبی صلی اللہ……
