حضرت زبیربن عوام رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا شَدَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ قُلْنَا لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا جَاءَ بِكُمْ ضَيَّعْتُمْ الْخَلِيفَةَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ جِئْتُمْ تَطْلُبُونَ بِدَمِهِ قَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّا قَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً لَمْ نَكُنْ نَحْسَبُ أَنَّا أَهْلُهَا حَتَّى وَقَعَتْ مِنَّا حَيْثُ وَقَعَتْ
مطرف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابو عبداللہ! آپ لوگ کس مقصد کی خاطر آئے ہیں، آپ لوگوں نے ایک خلیفہ کو ضائع کر دیا یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے، اب آپ ان کے قصاص کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت صدیق اکبر، فاروق اعظم اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے زمانے میں قرآن کریم کی یہ آیت پڑھتے تھے کہ اس آزمائش سے بچو جو خاص طور پر صرف ان لوگوں کی نہیں ہوگی جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا ہوگا (بلکہ عمومی ہوگی) لیکن ہم یہ نہیں سمجھتے تھے کہ اس کا اطلاق ہم پر ہی ہوگا، یہاں تک کہ ہم پر یہ آزمائش آگئی۔
